ورلڈ بینک مشن کا پی ڈی ایم اے سندھ کے ساتھ اہم اجلاس

52

کراچی (رپورٹ: نادیا کلر) — ورلڈ بینک کے وفد نے سندھ فلڈ ریزیلینس پروجیکٹ کے سلسلے میں ڈی جی پی ڈی ایم اے سندھ سید سلمان شاہ سے ملاقات کی، جس میں صوبے میں ڈیزاسٹر رسک اسیسمنٹ، پیشگی تیاری، ہنگامی ردعمل اور آفات سے نمٹنے کی استعداد مزید بہتر بنانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ڈی جی پی ڈی ایم اے سندھ نے کہا کہ سندھ کو مختلف قدرتی اور دیگر آفات کے خطرات کا سامنا ہے، اس لیے موجودہ ملٹی ہیزرڈ ولنریبلٹی اینڈ رسک اسیسمنٹ (MHVRA) کو جدید تقاضوں کے مطابق اپ گریڈ کرنا ضروری ہے۔ نئی اسیسمنٹ میں سمندری پانی کی دراندازی، شہری سیلاب سمیت ابھرتے خطرات اور تمام اضلاع کے تازہ ڈیٹا کو شامل کرنے پر زور دیا گیا۔

اجلاس میں صنعتی علاقوں میں آگ، دھماکوں، زہریلی و کیمیائی مواد کے اخراج اور قدرتی آفات کے نتیجے میں صنعتی حادثات کے خطرات کی میپنگ، ترجیحی ہاٹ اسپاٹس کی نشاندہی اور GIS پر مبنی ڈیٹا بیس کی تیاری پر بھی غور کیا گیا۔

ورلڈ بینک وفد نے ثقافتی و تاریخی ورثے کے مقامات اور سندھ کے صحرائی علاقوں کو بھی ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن منصوبہ بندی میں شامل کرنے کی تجویز دی۔ صحرائی علاقوں کے حوالے سے خشک سالی، شدید گرمی، پانی کی قلت، خوراک و روزگار کے عدم تحفظ اور بنیادی سہولیات تک رسائی جیسے عوامل کا جائزہ لینے پر زور دیا گیا۔

اجلاس میں بدین میں ہیومینٹیرین ریسپانس فیسلٹی (HRF) کے قیام، جبکہ کراچی، جامشورو اور سکھر میں موجود مراکز کی استعداد بڑھانے کی تجاویز بھی زیرِ غور آئیں۔ اس کے علاوہ پی ڈی ایم اے ہیڈ آفس، صوبائی و ضلعی ایمرجنسی آپریشنز سینٹرز اور انٹیگریٹڈ ڈسیژن سپورٹ سسٹم (IDSS) کی تیاری پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ورلڈ بینک مشن میں سلیم روحانہ، سید محمد بلال خالد، کامران اکبر، امپارو سیمپر ہرالڈو، مرزیہ فاروق اور فیکادو گیم مورڈا سمیت دیگر ماہرین شریک تھے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.