واشنگٹن (رپورٹ: سندھ ریکا): سندھی ایسوسی ایشن آف نارتھ امریکہ کی ایڈووکیسی اینڈ رائٹس کمیٹی کے زیرِ اہتمام ”وحدتِ سندھ اور اس کی تاریخی و سیاسی اہمیت، 23 مارچ 1940ء کی قراردادِ لاہور کی روشنی میں“ کے عنوان سے آن لائن سیمینار منعقد ہوا، جس میں مختلف مقررین نے سندھ کی تاریخی
حیثیت، سیاسی حقوق، صوبائی خودمختاری اور قراردادِ لاہور کے تناظر میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

سیمینار کی صدارت ایڈووکیسی اینڈ رائٹس کمیٹی کے چیئرمین ذوالفقار خواجہ نے کی۔ انہوں نے اجلاس کے اغراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے کہا کہ سیمینار کا مقصد سندھ کی وحدت، تاریخی حیثیت اور سیاسی حقوق کے حوالے سے سنجیدہ اور فکری مکالمے کو فروغ دینا ہے۔
سندھی ایسوسی ایشن آف نارتھ امریکہ کے صدر ڈاکٹر مقبول ہالیپوٹو نے مہمانوں اور شرکاء کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ سندھ ہزاروں سال پر محیط تاریخ، تہذیب اور منفرد شناخت رکھنے والی سرزمین ہے۔ ان کے مطابق سندھ کے عوام اپنی سرزمین سے گہری وابستگی رکھتے ہیں اور سندھ کے وجود، وحدت اور بقا کے تحفظ کے لیے ماضی میں بھی کردار ادا کرتے رہے ہیں۔
معروف سندھی دانشور اور مصنف جامی چانڈیو نے اپنے خطاب میں موجودہ سیاسی صورتحال اور ذرائع ابلاغ میں تشکیل پانے والے بیانیوں پر گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کی وحدت اور سیاسی حقوق سے متعلق مختلف آرا اور بیانیوں پر سنجیدہ مکالمے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کے عوام اپنی وحدت کے تحفظ کے لیے جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کرتے رہے ہیں۔
جامی چانڈیو نے 23 مارچ 1940ء کی قراردادِ لاہور کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس قرارداد میں صوبائی خودمختاری اور سیاسی خود اختیاری کے اصولوں پر زور دیا گیا تھا۔ انہوں نے برصغیر کی آئینی تاریخ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935ء کے تحت سندھ کو بمبئی پریزیڈنسی سے الگ کرکے علیحدہ صوبائی حیثیت دی گئی، جبکہ 1940ء کی قرارداد میں مسلم اکثریتی علاقوں کی آئینی اور سیاسی حیثیت کے حوالے سے ایک نیا سیاسی تصور سامنے آیا۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ قیامِ پاکستان کے وقت سندھ کی سیاسی حیثیت اور اس حوالے سے موجود تاریخی عوامل کو موجودہ سیاسی تناظر میں کس طرح سمجھا اور برقرار رکھا جا سکتا ہے۔
بیلجیم سے شریک کشمیری رہنما جمیل مقصود نے کہا کہ پاکستان میں مختلف قوموں اور علاقوں کے سیاسی و آئینی حقوق کے حوالے سے مسائل موجود رہے ہیں۔ انہوں نے سندھ، بلوچستان، خیبر پختونخوا اور کشمیر کے عوام کے حقوق اور سیاسی آواز کو تسلیم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
جیئے سندھ محاذ کے رہنما عبدالخالق جو نیجو نے اپنے خطاب میں 1940ء کی قراردادِ لاہور میں صوبائی خوداختیاری کے تصور پر گفتگو کی۔ انہوں نے سندھ کی قدیم تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سندھ کی تہذیبی اور تاریخی شناخت ہزاروں سال پر محیط ہے۔ ان کے مطابق سندھ کے سیاسی و آئینی حقوق کے لیے پرامن، جمہوری اور آئینی جدوجہد جاری رہنی چاہیے۔

سیمینار کے اختتام پر سانا کے جنرل سیکریٹری اسد علی شیخ نے تمام مہمانوں، مقررین اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ سندھی ایسوسی ایشن آف نارتھ امریکہ سندھ کی تاریخی شناخت، وحدت اور بقا کے حوالے سے شعور اجاگر کرنے کے لیے پرامن اور جمہوری طریقوں سے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔
آن لائن سیمینار کے اختتام پر سوال و جواب کا سیشن بھی ہوا، جس میں شرکاء نے مختلف سوالات اٹھائے اور مقررین نے ان کے جوابات دیتے ہوئے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔