ورلڈ سندھی کانگریس کانفرنس اختتام پذیر؛ سندھ کی وحدت، دریائے سندھ کے پانی اور وسائل پر اختیار کا مطالبہ
لندن (رپورٹؒ: سندھ ریکا) ورلڈ سندھی کانگریس کے زیرِ اہتمام سندھ کے حقِ خود ارادیت، جمہوریت، انسانی حقوق اور پائیدار مستقبل کے موضوع پر 38ویں عالمی کانفرنس یونیورسٹی آف ویسٹ منسٹر کے ہیرو کیمپس میں اختتام پذیر ہوگئی۔ کانفرنس میں برطانیہ، شمالی امریکہ، یورپ، مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا سے دانشوروں، سیاسی رہنماؤں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور مختلف اقوام کے نمائندوں نے شرکت کی۔

کانفرنس کا مرکزی موضوع سندھ کا حقِ خود ارادیت، امن، جمہوریت اور پائیدار مستقبل تھا۔ مقررین نے سندھ کی جغرافیائی وحدت کے تحفظ، دریائے سندھ کے پانی پر سندھ کے جائز حق، قدرتی وسائل پر مقامی آبادی کے اختیار، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خاتمے اور سندھی و اردو بولنے والی آبادی کے درمیان اتحاد و یکجہتی کی ضرورت پر زور دیا۔
سندھ کی وحدت اور وسائل پر اختیار کا مطالبہ
کانفرنس کے شرکاء نے واضح کیا کہ سندھ کے عوام اپنے تاریخی وطن کی تقسیم یا کراچی کو سندھ سے الگ کرنے کی کسی بھی تجویز کو قبول نہیں کریں گے۔ مقررین نے ایسی تجاویز کو سندھ کی جغرافیائی وحدت، قومی شناخت اور سیاسی حقوق سے متعلق ایک اہم مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ سندھ کی زمینوں، معدنی ذخائر اور قدرتی وسائل کے بارے میں فیصلوں میں مقامی آبادی کے حقوق اور مفادات کو ترجیح دی جانی چاہیے۔
سندھی اور اردو بولنے والوں میں اتحاد پر زور
کانفرنس میں سندھی اور اردو بولنے والی آبادی کے درمیان مشترکہ جدوجہد اور تعاون کو سندھ میں امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے اہم قرار دیا گیا۔ مقررین نے کہا کہ سندھ کے تمام باشندوں کے بنیادی حقوق، معاشی مفادات اور مشترکہ مستقبل ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، اس لیے اختلافات کم کرکے مشترکہ مفادات کی بنیاد پر آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ کی جغرافیائی وحدت، وسائل پر جائز اختیار اور جمہوری حقوق کے تحفظ کے لیے تمام باشندوں کے درمیان اعتماد، مساوات اور باہمی احترام کو فروغ دینا ضروری ہے۔
دریائے سندھ سے نئی نہریں نکالنے کے منصوبوں کی مخالفت
کانفرنس میں دریائے سندھ سے نئی نہریں نکالنے اور پانی کے قدرتی بہاؤ میں تبدیلی لانے کے منصوبوں کی سخت مخالفت کی گئی۔ مقررین نے خبردار کیا کہ ایسے منصوبوں سے زیریں سندھ کی زراعت، کاشت کاروں کے روزگار، علاقائی معیشت اور ماحولیات پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، جبکہ سندھ ڈیلٹا کو درپیش ماحولیاتی مسائل بھی مزید سنگین ہوسکتے ہیں۔
شرکاء نے کہا کہ دریائے سندھ سندھ کی تاریخ، تہذیب، معیشت اور ماحولیاتی بقا کا بنیادی حصہ ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ دریا کے پانی سے متعلق کسی بھی منصوبے یا فیصلے میں زیریں علاقوں کے لیے پانی کی ضروری فراہمی، ماحولیاتی تقاضوں اور سندھ کے عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔
بلوچ اور پشتون نمائندوں کی شرکت
کانفرنس میں بلوچ اور پشتون نمائندوں نے بھی شرکت کی اور سندھ کے سیاسی حقوق اور جغرافیائی وحدت کے تحفظ کی حمایت کا اظہار کیا۔ شرکاء میں بلوچ نیشنل موومنٹ کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم بلوچ، بلوچ ہیومن رائٹس سینٹر کے ڈاکٹر نصیر دشتی اور پشتون تحفظ موومنٹ کے شاہد خان کاکڑ شامل تھے۔
ان رہنماؤں نے سندھ کو تقسیم کرنے کی کسی بھی کوشش کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ بلوچ، پشتون اور سندھی اقوام کو سیاسی حقوق، وسائل پر اختیار اور انسانی حقوق کے تحفظ کے حوالے سے مختلف چیلنجز کا سامنا ہے۔ انہوں نے وسائل کی منصفانہ تقسیم، سیاسی حقوق کے تحفظ اور مرکزی اختیارات کے حد سے زیادہ ارتکاز سے متعلق خدشات کو اجاگر کرتے ہوئے اقوام کے درمیان مشترکہ جدوجہد کی ضرورت پر زور دیا۔
اقوام کے درمیان یکجہتی کا پیغام
کانفرنس کے اختتام پر مقررین نے جمہوری حقِ خود ارادیت، اقوام کی مساوات، انسانی حقوق کے تحفظ اور قدرتی وسائل پر جائز اختیار کے حصول کے لیے مشترکہ جدوجہد جاری رکھنے پر زور دیا۔
شرکاء کے مطابق سندھ میں امن، جمہوریت اور پائیدار خوشحالی کے لیے جغرافیائی وحدت کا تحفظ، پانی کی منصفانہ تقسیم، وسائل کے بارے میں مقامی آبادی کے حقوق کا احترام اور سندھی، اردو، بلوچ اور پشتون برادریوں کے درمیان یکجہتی کو مضبوط بنانا ضروری ہے۔