سانا الیکشن سرگرمیان- اجارہ داری کے بجائے جمہوری روایات کا فروغ چاہتے ہیں: شعیب بھٹو

161

ورجینیا (رپورٹ: سندھ ریکا) امریکہ میں مقیم سندھی برادری کی سماجی بہبود، مدد اور کمیونٹی کی خدمت کے حوالے سے حبیب بھٹو کا نام نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ انہیں امریکہ میں مقیم سندھیوں کا ایدھی بھی کہا جاتا ہے، جو مشکل حالات میں اپنے ہم وطنوں کی مدد کے لیے ہمیشہ پیش پیش رہے ہیں۔ ان کے چھوٹے بھائی شعیب احمد بھٹو بھی سماجی خدمات کے شعبے میں سرگرم ہیں اور مختلف حالات میں سندھی برادری کی معاونت کرتے رہتے ہیں۔

شعیب احمد بھٹو اس وقت سندھی ایسوسی ایشن آف نارتھ امریکہ (سانا) کے انتخابات میں یونٹی ٹیم پینل کی جانب سے جوائنٹ سیکریٹری کے عہدے کے امیدوار ہیں۔ انتخابی مہم کے دوران وہ تنظیم میں باہمی مشاورت، جمہوری روایات اور ارکان کی آزادانہ رائے کی اہمیت پر زور دے رہے ہیں۔

سانا میں اجارہ داری کے بجائے جمہوری روایات کا فروغ چاہتے ہیں

سندھ ریکا سے گفتگو کرتے ہوئے شعیب احمد بھٹو نے کہا کہ* تنظیم میں بعض سینئر ارکان کی جانب سے اجتماعی کام اور مشاورت کے بجائے اجارہ دارانہ طرزِ عمل اختیار کرنے پر خدشات پائے جاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ووٹ حاصل کرنے کے لیے لابنگ کے بجائے ارکان کو اپنی آزادانہ رائے اور مرضی کے مطابق اہل امیدواروں کا انتخاب کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ *ہم سانا میں جاگیردارانہ سوچ کا خاتمہ کرکے نوجوانوں کو آگے لانا چاہتے ہیں۔

شفافیت اور ارکان کی شمولیت اولین ترجیح ہونی چاہیے

شعیب بھٹو نے مزید کہا کہ تنظیمی معاملات میں جاگیردارانہ طرزِ فکر اور روایتی طاقت کی سیاست کی گنجائش کم ہونی چاہیے، جبکہ ارکان کی شمولیت، شفافیت اور مشترکہ ذمہ داری کو ترجیح دی جانی چاہیے۔

سانا کی رکنیت 15 ہزار تک بڑھانے کا ہدف

شعیب احمد بھٹو کے مطابق سانا میں اس وقت تقریباً 4 ہزار ارکان ہیں، جن کی تعداد بڑھا کر 10 سے 15 ہزار تک لے جانے کا ہدف ہے۔* انہوں نے امید ظاہر کی کہ یونٹی ٹیم پینل انتخابات میں کامیابی حاصل کرکے تنظیم کو مزید فعال، جمہوری اور ارکان کی ضروریات سے ہم آہنگ بنانے میں اپنا کردار ادا کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ *سانا کے مستقبل کے لیے ارکان کی آزادانہ رائے، باہمی مشاورت اور جمہوری طریقۂ کار کو بنیادی اہمیت حاصل ہونی چاہیے۔*

Leave A Reply

Your email address will not be published.