لندن میں کرکٹر کا موبائل فون تحویل میں لینے پر بھی سوالات اٹھ گئے، نوٹس میں آن لائن بیٹنگ کا ذکر تاہم کسی مخصوص جرم یا میچ کی نشاندہی نہیں کی گئی
اسلام آباد/لندن: قومی کرکٹ ٹیم کے وکٹ کیپر بیٹر محمد رضوان، جو ماضی میں مبینہ بیٹنگ اور سرواگیٹ جوئے کے برانڈز کی جانب سے کروڑوں روپے کی پیشکشیں مسترد کرنے کے حوالے سے سامنے آچکے ہیں، اب خود آن لائن بیٹنگ سے متعلق تحقیقات کی زد میں آگئے ہیں۔
’دی نیوز انٹرنیشنل‘ کی رپورٹ کے مطابق رضوان کو جاری کیے گئے تحقیقات کے نوٹس میں آن لائن بیٹنگ اور جوئے کا ذکر کیا گیا ہے، تاہم کسی مخصوص جرم، میچ یا مبینہ خلاف ورزی کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ رضوان نے ماضی میں ایک سرواگیٹ بیٹنگ ادارے کی جانب سے مبینہ طور پر 10 کروڑ روپے کی اسپانسرشپ پیشکش مسترد کردی تھی۔ انہوں نے بیٹنگ اسپانسر کا لوگو اپنی کھیلوں کی کِٹ پر لگانے سے بھی انکار کیا تھا۔
دستاویزی خط و کتابت کے حوالے سے رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ رضوان اور سابق کپتان بابر اعظم نے بیٹنگ اور سرواگیٹ بیٹنگ برانڈز کی تشہیر سے گریز کا مؤقف اختیار کیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق بابر اعظم نے مبینہ طور پر 25 کروڑ روپے سالانہ کی پیشکش بھی قبول نہیں کی۔
رضوان کے حوالے سے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پاکستان سپر لیگ کے دوران ملتان سلطانز کی کپتانی کرتے ہوئے انہوں نے مبینہ سرواگیٹ بیٹنگ اسپانسر کا لوگو اپنی کِٹ پر لگانے سے انکار کیا۔
تحقیقات کا طریقہ کار بھی سوالات کی زد میں
رپورٹ کے مطابق 31 اگست 2026 کو لارڈز میں دوسرے ٹیسٹ کے اختتام کے بعد رضوان کے موبائل فون سے متعلق کارروائی کی گئی اور فون پاکستان منتقل کیے جانے کے معاملے پر بھی سوالات اٹھائے گئے۔
رپورٹ میں تحقیقات کے طریقہ کار، دائرہ اختیار اور قانونی ضابطوں سے متعلق مختلف سوالات کا ذکر کیا گیا ہے، تاہم متعلقہ اداروں کی جانب سے ان سوالات پر تفصیلی مؤقف سامنے نہیں آیا۔
رپورٹ کے مطابق انڈسٹری ذرائع نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ رضوان اور بابر اعظم کی تصاویر بعض ڈیجیٹل تشہیری مہمات میں ان کی اجازت کے بغیر استعمال کی گئیں۔
یوں ایک طرف رضوان کی جانب سے مبینہ طور پر بیٹنگ اسپانسرشپ اور اس کے تشہیری مواد سے دور رہنے کا ریکارڈ سامنے آتا ہے، جبکہ دوسری جانب وہ خود آن لائن بیٹنگ سے متعلق تحقیقات کا سامنا کر رہے ہیں۔