سندھی انجینئرز آف نارتھ امریکہ کے زیرِ اہتمام ڈیجیٹل تبدیلی پر آن لائن سیمینار، انجینئر اقبال ترین کا مؤثر حکمتِ عملی پر زور
ہیوسٹن (رپورٹؒ: سندھ ریکا) سندھی انجینئرز آف نارتھ امریکہ (SENA)، جو سندھی ایسوسی ایشن آف نارتھ امریکہ (SANA) کی باضابطہ طور پر منظور شدہ کمیٹی ہے، کے زیرِ اہتمام ”رکاوٹوں کا خاتمہ: ڈیجیٹل تبدیلی کا عملی رہنما“ کے عنوان سے ایک آن لائن سیمینار منعقد کیا گیا۔ سیمینار میں انجینئرنگ، انفارمیشن ٹیکنالوجی، کاروبار اور پیشہ ورانہ ترقی سے وابستہ افراد نے شرکت کی، جہاں اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے، جدید ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال اور ڈیجیٹل تبدیلی کے عملی پہلوؤں پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی۔
سیمینار کے کلیدی مقرر انجینئر اقبال ترین تھے، جو سندھی ایسوسی ایشن آف نارتھ امریکہ کے سابق صدر اور سندھی انجینئرز آف نارتھ امریکہ کے چیئرمین ہیں۔ ٹیکنالوجی کے شعبے میں سینئر انتظامی ذمہ داریوں اور ڈیجیٹل تبدیلی کے میدان میں مہارت رکھنے والے انجینئر اقبال ترین کو امریکہ میں چار دہائیوں سے زائد پیشہ ورانہ تجربہ حاصل ہے۔ انہوں نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا درست اور بامقصد استعمال سرکاری محکموں، کاروباری اداروں اور مختلف تنظیموں کے نظامِ کار، خدمات کی فراہمی اور فیصلہ سازی کو زیادہ مؤثر بنا سکتا ہے۔
ڈیجیٹل تبدیلی محض ٹیکنالوجی کی تنصیب نہیں
انجینئر اقبال ترین نے اپنے خطاب میں اس تصور کی وضاحت کی کہ ڈیجیٹل تبدیلی صرف کاغذی کارروائی کو کمپیوٹر پر منتقل کرنے یا نئے سافٹ ویئر متعارف کرانے تک محدود نہیں۔ ان کے مطابق، حقیقی ڈیجیٹل تبدیلی کے لیے اداروں کے کام کرنے کے طریقوں، معلومات کے تبادلے، انسانی وسائل کے انتظام اور خدمات کی فراہمی کے نظام میں بنیادی اور بامقصد بہتری لانا ضروری ہے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ بہت سے اداروں کو اس وقت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جب ان کے مختلف شعبے ایک دوسرے سے رابطے کے مؤثر نظام کے بغیر الگ الگ کام کرتے ہیں، استعمال ہونے والے سافٹ ویئر اور ڈیٹا سسٹمز باہم مربوط نہیں ہوتے اور ایک ہی کام بار بار انجام دینا پڑتا ہے۔ اس صورتِ حال میں معلومات تک رسائی مشکل ہو جاتی ہے، کام کی رفتار سست پڑ جاتی ہے، اخراجات اور غلطیوں میں اضافہ ہوتا ہے اور بروقت و درست فیصلہ سازی متاثر ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان مسائل کا پائیدار حل صرف نئی ٹیکنالوجی خریدنے میں نہیں، بلکہ ادارے کی حقیقی ضروریات کو سمجھنے، موجودہ خامیوں کی نشاندہی کرنے اور کام کے طریقۂ کار کو بہتر بنانے میں پوشیدہ ہے۔
کامیاب ڈیجیٹل تبدیلی کے تین بنیادی ستون
کلیدی مقرر نے کامیاب ڈیجیٹل تبدیلی کے تین اہم ستونوں کی وضاحت کرتے ہوئے معلومات، کام کے طریقۂ کار اور افراد کو بنیادی اہمیت کا حامل قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی ادارے کو ٹیکنالوجی اپنانے سے پہلے یہ طے کرنا چاہیے کہ وہ کس مسئلے کو حل کرنا چاہتا ہے، اس تبدیلی سے کن افراد کو فائدہ پہنچے گا اور کامیابی کو کس طرح جانچا جائے گا۔
انجینئر ترین نے زور دیا کہ ڈیجیٹل ذرائع کا استعمال واضح اہداف کے تحت ہونا چاہیے، تاکہ ان کے نتیجے میں ملازمین کی کارکردگی بہتر ہو، صارفین کو سہولت ملے اور عام لوگوں کو فراہم کی جانے والی خدمات زیادہ تیز، قابلِ اعتماد اور مؤثر بن سکیں۔
والمارٹ میں قائم سب وے ریسٹورنٹ کی مثال
اپنے مؤقف کو عملی مثال کے ذریعے واضح کرتے ہوئے انجینئر اقبال ترین نے امریکی ریاست ویسٹ ورجینیا کے شہر مارٹنسبرگ میں والمارٹ اسٹور کے اندر قائم سب وے ریسٹورنٹ کا حوالہ دیا۔ انہوں نے بتایا کہ ڈیجیٹل آرڈرنگ، کام کی بہتر تقسیم، صارفین کو بروقت معلومات فراہم کرنے اور کارکردگی کی مسلسل نگرانی جیسے اقدامات کے ذریعے انتظار کا وقت کم کیا جا سکتا ہے اور خدمات فراہم کرنے کی صلاحیت میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اس نوعیت کی بہتری کے لیے ضروری نہیں کہ ہر مسئلے کا حل کسی بڑے اور مہنگے تکنیکی نظام میں تلاش کیا جائے۔ بعض اوقات موجودہ وسائل کو بہتر انداز میں استعمال کرنے، کام کے مراحل کو منظم کرنے اور معلومات کے تبادلے کو آسان بنانے سے بھی نمایاں نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
ڈیجیٹل تبدیلی کے لیے چھ مراحل پر مشتمل عملی حکمتِ عملی
انجینئر ترین نے ڈیجیٹل تبدیلی کے لیے چھ مراحل پر مشتمل ایک عملی طریقۂ کار بھی پیش کیا، جس کا مقصد اداروں کو منصوبہ بندی سے لے کر نتائج کے جائزے اور کامیاب اقدامات کے وسیع پیمانے پر نفاذ تک رہنمائی فراہم کرنا تھا۔
ان مراحل میں موجودہ صورتِ حال کا مشاہدہ اور متعلقہ افراد سے گفتگو، مسائل کی درست تشخیص، مناسب حل کی منصوبہ بندی، محدود پیمانے پر مجوزہ حل کی آزمائش، حاصل ہونے والے نتائج کی پیمائش اور کامیاب اقدامات کو مرحلہ وار وسعت دینا شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی بھی بڑے منصوبے کو فوری طور پر پورے ادارے میں نافذ کرنے کے بجائے پہلے محدود پیمانے پر آزمانا زیادہ مؤثر حکمتِ عملی ثابت ہو سکتا ہے۔ اس سے ممکنہ خامیوں کی نشاندہی، اخراجات اور خطرات میں کمی اور نتائج کی بنیاد پر بہتر فیصلے کرنے میں مدد ملتی ہے۔
انسانی کردار، قیادت اور تربیت کی اہمیت
سیمینار کا ایک اہم موضوع ڈیجیٹل تبدیلی میں انسانی کردار کی اہمیت تھا۔ انجینئر اقبال ترین نے کہا کہ کسی بھی تکنیکی منصوبے کی کامیابی کا انحصار صرف جدید سافٹ ویئر یا مشینری پر نہیں، بلکہ اس بات پر بھی ہوتا ہے کہ متعلقہ افراد اس تبدیلی کو کس حد تک سمجھتے، قبول کرتے اور مؤثر انداز میں استعمال کرتے ہیں۔
انہوں نے اداروں کی قیادت، ملازمین کی تربیت، واضح ابلاغ، فیصلہ سازی میں ملازمین کی شمولیت اور مسلسل معاونت کو کامیاب تبدیلی کے لیے ضروری قرار دیا۔ ان کے مطابق، اگر ملازمین کو نئے نظام کے مقاصد سے آگاہ نہ کیا جائے، مناسب تربیت فراہم نہ کی جائے یا انہیں درپیش مشکلات کا حل نہ دیا جائے تو جدید ترین ٹیکنالوجی بھی مطلوبہ نتائج فراہم کرنے میں ناکام ہو سکتی ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ڈیجیٹل تبدیلی کو ایک وقتی تکنیکی منصوبے کے بجائے مسلسل بہتری کے عمل کے طور پر دیکھا جانا چاہیے، جس میں ادارے اپنے تجربات سے سیکھتے ہوئے نظام کو بہتر بناتے رہیں۔
سانا کی جانب سے سیمینار کی پذیرائی

سندھی ایسوسی ایشن آف نارتھ امریکہ کے جنرل سیکریٹری اسد علی شیخ نے سیمینار کو سراہتے ہوئے منتظمین اور کلیدی مقرر کو مبارک باد پیش کی۔ انہوں نے انجینئر اقبال ترین کی جانب سے فراہم کردہ مفید اور پیشہ ورانہ معلومات کو قابلِ قدر قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کے تعلیمی پروگرام سندھی برادری میں علم، جدت اور باہمی تعاون کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
اسد علی شیخ نے یقین دلایا کہ سندھی ایسوسی ایشن آف نارتھ امریکہ مستقبل میں بھی ایسے تعلیمی، فنی اور پیشہ ورانہ ترقی کے پروگراموں کی حمایت جاری رکھے گی، جو کمیونٹی کے افراد کو جدید علوم اور بدلتے ہوئے پیشہ ورانہ تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔
سندھی انجینئرز آف نارتھ امریکہ کے عزم کا اعادہ
سندھی انجینئرز آف نارتھ امریکہ نے اپنے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ پیشہ ور افراد کے درمیان روابط کو مضبوط بنانے، علم و تجربات کے تبادلے کو فروغ دینے، جدت کی حوصلہ افزائی کرنے اور شمالی امریکہ سمیت سندھ میں سندھی برادری کے اندر انجینئرنگ اور ٹیکنالوجی کی ترقی کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔
سیمینار کے اختتام پر شرکاء نے انجینئر اقبال ترین سے مختلف سوالات کیے۔ انہوں نے سوالات کے تفصیلی اور معلوماتی جوابات دیتے ہوئے ڈیجیٹل تبدیلی کے عملی پہلوؤں اور اداروں میں جدید ٹیکنالوجی کے مؤثر نفاذ سے متعلق شرکاء کی رہنمائی کی۔
یہ سیمینار پیشہ ورانہ علم کے تبادلے اور جدید ٹیکنالوجی کے عملی استعمال کے حوالے سے ایک مفید سرگرمی ثابت ہوا، جس نے اس امر کو اجاگر کیا کہ کامیاب ڈیجیٹل تبدیلی کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ مؤثر منصوبہ بندی، بہتر انتظامی حکمتِ عملی اور انسانی صلاحیتوں کی ترقی بھی ناگزیر ہے۔