ورجینیا (رپورٹ: سندھ ریکا) سندھی ایسوسی ایشن آف نارتھ امریکہ (سانا) کی ایگزیکٹو کونسل نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایم کیو ایم کی جانب سے منعقد کی گئی ریلی میں انتہائی محدود شرکت اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ کراچی کے عوام نے بھی سندھ کی تقسیم کی مہم کو مسترد کر دیا ہے۔
سانا ایگزیکٹو کونسل کا کہنا ہے کہ کراچی کی بڑی آبادی کے باوجود ریلی میں صرف چند سو افراد کی شرکت سے کم از کم یہ بات واضح ہوتی ہے کہ سندھ کی تقسیم کا نعرہ کراچی کی پوری اردو بولنے والی آبادی کی نمائندگی نہیں کرتا۔
سانا کے مطابق اردو بولنے والے سندھی اس دھرتی کے برابر کے باشندے ہیں اور سندھ کی سماجی، معاشی اور ثقافتی زندگی کا اہم حصہ ہیں۔ انہیں کسی سیاسی جماعت کے تقسیم پسندانہ ایجنڈے کے ساتھ جوڑ کر سندھ کی وحدت کو لسانی سیاست کی بنیاد پر چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ کراچی سندھ کا تاریخی، جغرافیائی اور معاشی حصہ ہے اور سندھ کو تقسیم کرنے کا کوئی بھی منصوبہ کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔ سندھ کے مسائل کا حل نئے صوبوں کے نعروں میں نہیں بلکہ بہتر حکمرانی، مضبوط مقامی اداروں، وسائل کی منصفانہ تقسیم، روزگار، تعلیم، صحت اور بنیادی سہولیات کی فراہمی میں ہے۔
سانا نے اپنے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کی وحدت پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا، سندھ کی تقسیم کسی صورت قبول نہیں کی جائے گی اور ایسی ہر کوشش کو پرامن اور آئینی طریقے سے روکا جائے گا۔ بیان میں کہا گیا کہ سندھ ایک تھا، سندھ ایک ہے اور سندھ ایک رہے گا۔