ملکی نظام کی خرابی وفاقی معاملہ، لنڊن سيمينار مين نئے صوبوں کی سخت مخالفت

118

لندن (مانیٹرنگ ڈیسک) نامور دانشوروں، ادیبوں اور لکھاریوں نے پاکستان میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس بنانے کی مہم کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ کی وحدت کے ساتھ چھیڑ چھاڑ ملک کے لیے خطرناک ثابت ہوگی۔

سندھی ایسوسی ایشن آف نارتھ امریکا (سانا) یورپ کی جانب سے پاکستان میں انتظامی یونٹس کے قیام اور سندھ کی تقسیم کے خلاف لندن میں سیمینار منعقد کیا گیا، جس سے دانشور اور پانی کے ماہر نصیر میمن، دانشور جامی چانڈیو، صحافی مظہر عباس، صحافی امتیاز عالم، صحافی خالد کھوکھر، سانا یورپ کے صدر روہت کمار اور جنرل سیکریٹری ڈاکٹر قادر سرکی نے خطاب کیا۔ پروگرام کی نظامت عذرا وقاص نے کی۔

اس موقع پر مقررین نے کہا کہ وفاقی وزیر داخلہ کا یہ کہنا کہ ملک کا نظام بیٹھ گیا ہے، اس لیے ملک میں نئے انتظامی یونٹس بنانے پڑیں گے، غیر منطقی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کا نظام نہ چلنا صوبائی نہیں بلکہ وفاقی معاملہ ہے، جس کی بنیادی وجوہات ملک میں حقیقی جمہوریت، عوام دوست حکمرانی، قانون کی بالادستی اور انصاف کا فقدان ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ریاست کو سماجی، سیاسی اور انتظامی بحران کا سامنا ہے اور اپنی ناکامی کو چھپانے کے لیے نئے انتظامی یونٹس کی بات کی جا رہی ہے۔

نصیر میمن نے کہا کہ ’’آپ چار صوبوں میں پانی تقسیم نہیں کر سکتے تو 36 صوبوں میں پانی کیسے تقسیم کریں گے؟‘‘ انہوں نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ 2009ء میں دیا گیا تھا، جبکہ پنجاب اور سندھ کے درمیان پانی کے تنازع کی تاریخ 150 سال پرانی ہے۔ جو لوگ دو صوبوں کے درمیان پانی کا تنازع حل نہیں کر سکتے، وہ 36 صوبوں کے مسائل اور تنازعات کیسے حل کریں گے؟۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.