ٹیکساس (خصوصی نمائندہ) 5 اگست 2019ء کو بھارت کی جانب سے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کیے جانے (آرٹیکل 370 اور 35A) کی یاد میں ’’فرینڈز آف کشمیر‘‘ کے زیر اہتمام ڈیلاس، ٹیکساس میں کانفرنس منعقد کی گئی۔ کانفرنس کے دوران مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج اور حکومت کی جانب سے انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی کیا گیا۔ کانفرنس کی صدارت ’’فرینڈز آف کشمیر‘‘ کی بانی چیئرپرسن غزالہ حبیب نے کی۔ خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 5 اگست 2019ء کے بعد وادیٔ کشمیر ایک انسانی جیل میں تبدیل ہو گئی ہے، جہاں بھارتی فورسز کی مبینہ زیادتیاں جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کو حقِ خودارادیت سے محروم رکھا گیا ہے اور عالمی برادری کو صورتحال کا نوٹس لینا چاہیے۔ پاکستان ہر فورم پر کشمیر کا مسئلہ اٹھائے گا، قونصل جنرل آفتاب چوہدری کانفرنس کے خصوصی مہمان پاکستان کے قونصل جنرل ہیوسٹن آفتاب چوہدری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور پاکستانی عوام ہر وقت کشمیری عوام کے ساتھ کھڑے ہیں اور ان کی ہر ممکن مدد جاری رکھی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور پاکستان یہ مسئلہ ہر عالمی فورم پر اٹھاتا رہے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کشمیری عوام کی حقِ خودارادیت کی جدوجہد کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔ کانفرنس سے سید فیاض الحسن، اشرف بشیر، ڈاکٹر فریحہ قاضی، اقبال حسن، غلام جہانگڑا، کیپٹن طارق، طلعت خان اور دیگر سماجی و سیاسی شخصیات نے بھی خطاب کیا۔ مقررین نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کی مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کا حل نکالا جائے۔ کانفرنس کے شرکاء نے کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے قرارداد منظور کی، جس میں بھارت سے مطالبہ کیا گیا کہ مقبوضہ کشمیر میں فوجی کارروائیاں بند کی جائیں اور کشمیری عوام کو حقِ خودارادیت دیا جائے۔ اس موقع پر سکھ کمیونٹی کے رہنماؤں نے بھی خصوصی طور پر شرکت کی اور کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی کیا۔ گرویندر سنگھ نے کہا کہ سکھ برادری اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کی آزادی کی جدوجہد میں ان کے ساتھ کھڑی ہے۔