25 سال پہلے کراچی چھوڑا، مگر کراچی نے مجھے کبھی نہیں چھوڑا: کامران جیلانی

82

25 سال پہلے بہتر مستقبل کی تلاش میں کراچی چھوڑ کر امریکہ آ گیا، مگر کراچی آج بھی دل میں اسی طرح بسا ہوا ہے۔ ہر سال جب کراچی آتا ہوں تو شہر کی بدلتی اور بگڑتی صورتحال دیکھ کر دل افسردہ ہوتا ہے، لیکن پرانے دوستوں، صحافی ساتھیوں اور ان لوگوں سے ملاقاتیں جن سے زندگی کے کئی خوبصورت سال وابستہ ہیں، اس اداسی کو خوشگوار یادوں میں بدل دیتی ہیں۔

کراچی کا سفر میرے لیے محض ایک شہر کا دورہ نہیں بلکہ ماضی سے دوبارہ ملاقات کا نام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر سال اگر کراچی نہ آؤں تو ایک عجیب سی کمی اور بے چینی محسوس ہوتی ہے۔

گزشتہ ماہ بھی اچانک کراچی آنے کا موقع ملا۔ صرف نو دن قیام رہا، لیکن ان مختصر دنوں میں پرانے دوستوں اور صحافتی ساتھیوں سے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہا۔ مصروفیات زیادہ ہونے کے باعث کئی دعوتوں میں شرکت نہ کر سکا، تاہم چند ملاقاتیں ایسی رہیں جو ہمیشہ یاد رہیں گی۔

کراچی پہنچتے ہی ہمارے دیرینہ دوست افضل ندیم ڈوگر نے ہمیشہ کی طرح محبت اور خلوص کے ساتھ میزبانی کی۔ سما ٹی وی کے سینئر صحافی جاوید چوہدری سے بھی ملاقات رہی۔

کراچی پریس کلب میرے لیے ہمیشہ خاص جگہ رہا ہے۔ یہاں ہر شام جانا جیسے ماضی کے دریچے کھولنے کے مترادف ہے۔ طاہر حسن خان، مقصود یوسفی، رفعت سعید، سراج احمد، فاضل جمالی، جی ایم جمالی، ارباب چانڈیو، نصرت امین، منیر بھائی، طارق ابوالحسن، علاؤالدین خانزادہ، عامر لطیف اور دیگر صحافتی دوستوں سے ملاقاتیں ہوئیں۔

ایکسپریس نیوز کے ایڈیٹر حسن عباس نے بہادر آباد میں ناشتے کی دعوت دی، جہاں فیصل حسین، اصغر عمر اور عامر بھی شریک ہوئے۔ پرانی یادیں تازہ ہوئیں اور یوں محسوس ہوا جیسے وقت کئی سال پیچھے چلا گیا ہو۔

اس دورے کی سب سے اہم خواہش اپنے استاد اور سینئر صحافی صفدر علی صفدر سے ملاقات تھی۔ ناظم آباد میں ان کی رہائش گاہ پر حاضر ہوا۔ صفدر بھائی کی سادگی اور جونیئرز سے محبت آج بھی ویسی ہی ہے۔ ملاقات میں ماضی اور آج کی صحافت پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔

اگلے روز علی حسن کے ساتھ اے آر وائی کے دفتر گیا، جہاں دیرینہ دوست صلاح الدین سے ملاقات ہوئی۔ صحافت کی موجودہ صورتحال اور صحافیوں کو درپیش مسائل پر گفتگو ہوئی۔ وہیں انور شلی اور اصغر عمر سے بھی ملاقات نے پرانی یادیں تازہ کر دیں۔

پرانے دوست اور جی این ٹی وی کے بیورو چیف شاہ ولی اللہ سے ان کے دفتر میں ملاقات کے بعد بول چینل کا دورہ کیا، جہاں ڈائریکٹر نیوز عمران صاحب اور کنٹرولر نیوز علی صاحب سے صحافتی معاملات اور امریکہ کی صورتحال پر گفتگو ہوئی۔ بعد ازاں عمران صاحب اور شاہ ولی اللہ نے غفار ریسٹورنٹ میں عشائیے کا اہتمام کیا۔

دورے کے تیسرے روز افضل ندیم کے ہمراہ آرٹس کونسل گیا۔ طویل عرصے بعد صدر آرٹس کونسل احمد شاہ سے ملاقات ہوئی۔ رفعت سعید اور معروف صحافی مظہر عباس بھی اس موقع پر موجود تھے۔

آرٹس کونسل کی موجودہ ترقی دیکھ کر خوشی ہوئی۔ احمد شاہ کی قیادت اور مسلسل محنت نے اس ادارے کو ایک اہم ثقافتی و ادبی مرکز بنا دیا ہے۔

مصروفیات کے باوجود معروف اسپورٹس اینکر یحییٰ حسینی بھی خصوصی طور پر پریس کلب میں ملاقات کے لیے آئے۔ ایسے دوست دراصل کراچی سے جڑے رشتوں کی اصل پہچان ہیں۔

اسی رات دیرینہ بیوروکریٹ دوست طٰہٰ فاروقی نے باتھ آئی لینڈ میں عشائیے کا اہتمام کیا، جس میں شاہ ولی اللہ اور دیگر دوست بھی شریک ہوئے۔ گفتگو میں امریکہ میں مقیم پرانے مشترکہ دوستوں کا بھی ذکر ہوا۔

ڈیفنس میں اپنے پیارے بھائی جی ایم جمالی سے ملاقات بھی ہوئی۔ ماضی کی یادیں تازہ ہوئیں اور انہیں بتایا کہ صفدر بھائی نے ان کی بہت تعریف کی ہے۔

وقت کم تھا، اس لیے کئی دوستوں سے بالمشافہ ملاقات نہ ہو سکی، تاہم ماجد بھٹی، شاہد ہاشمی اور اویس توحید سے فون پر گفتگو ضرور ہوئی۔

نو دن کب گزر گئے، پتہ ہی نہیں چلا۔ کراچی ایک بار پھر بہت سی یادیں دے کر پیچھے رہ گیا۔ شہر کو ہر سال پہلے سے زیادہ مشکلات میں دیکھ کر دکھ ہوتا ہے، لیکن دوستوں کی محبت اور پرانی رفاقتیں اس دکھ کو کچھ کم کر دیتی ہیں۔

25 سال پہلے میں کراچی سے دور ضرور ہو گیا تھا، مگر کراچی آج بھی میرے اندر زندہ ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ہر سال مجھے کراچی کی طرف کھینچ لاتا ہے—اور ہر بار واپسی پر دل میں یہی احساس ہوتا ہے کہ میں کراچی چھوڑ کر تو آ گیا، لیکن کراچی نے مجھے کبھی نہیں چھوڑا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.