سانا میں ’دو پینلوں‘ کی بادشاہت ختم کرنے آئے ہیں: صدارتی امیدوار حسن مجتبیٰ کا انٹرویو

سانا میں ’دو پینلوں‘ کی بادشاہت ختم کرنے آئے ہیں: صدارتی امیدوار حسن مجتبیٰ کا انٹرویو

سوال:
سانا کے انتخابات میں برسوں سے دو پینل ایک دوسرے کے مدِمقابل آتے رہے ہیں۔ اب آپ تیسرا پینل لے کر میدان میں اترے ہیں۔ صاف لفظوں میں بتائیے: کیا آپ سانا میں دو گروپوں کی اجارہ داری کو چیلنج کرنے آئے ہیں؟

حسن مجتبیٰ:
بالکل، ہم خود کو تیسری اور متبادل قوت کے طور پر پیش کرنا چاہتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ سانا میں صرف دو بااثر گروپوں کی بالادستی کیوں ہو؟ آخر کسی کی مرضی یا آشیرواد کے بغیر امیدوار کیوں نہیں کھڑا ہوسکتا؟ یہ سلسلہ آخر کب تک چلتا رہے گا؟

ہم کوئی نئی دیگ چڑھانے نہیں آئے، بلکہ اس دیگ کا ڈھکن اٹھانے آئے ہیں جو سانا کے فاؤنڈنگ فادرز نے ایک مقصد کے تحت چڑھائی تھی۔

ہمارا مقصد سانا کو کسی گروپ کی جاگیر بنانا نہیں، بلکہ اسے اس کی اصل روح کی طرف واپس لے جانا ہے۔

میں یہ بھی واضح کر دوں کہ دونوں موجودہ گروپوں کی سندھ دوستی پر ہمیں کوئی شک نہیں۔ وہ بھی سندھ کے خیرخواہ ہیں، ان کا اپنا سفر اور اپنا کام ہے۔ ہمارا اختلاف سندھ دوستی سے نہیں، نقطۂ نظر اور طریقۂ کار سے ہے۔

سوال:
آپ نے اپنے پینل کا نام ’آزادی پینل‘ رکھا ہے۔ نام تو بڑا انقلابی ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ سانا کا الیکشن آخر کس آزادی کی جنگ ہے؟

حسن مجتبیٰ:
یہ صرف الیکشن نہیں؛ ہمارے لیے یہ ووٹ کی آزادی، سوچ کی آزادی اور اختلافِ رائے کی آزادی کی جنگ ہے۔

’آزادی‘ سے مراد شخصی آزادی، سندھ کے انسانی، تاریخی اور قومی حقوق کی آزادی، خواتین کی آزادی، فکر و سوچ کی آزادی، سندھی ڈائسپورا کے ووٹ کی آزادی اور اختلافِ رائے کی آزادی ہے۔

سوال:
لیکن ایک دلچسپ تضاد ہے۔ آپ امریکہ میں رہتے ہیں، جہاں ووٹ کی آزادی کو جمہوریت کی بنیاد سمجھا جاتا ہے۔ پھر آپ کہتے ہیں کہ سندھی ڈائسپورا کا ووٹ آزاد نہیں۔ کیا آپ سانا کے ووٹنگ سسٹم پر ہی سوال اٹھا رہے ہیں؟

حسن مجتبیٰ:
جی ہاں، ہم سوال اٹھا رہے ہیں۔

امریکہ آزاد ملک ہے، لیکن سانا کے اندر سندھی ڈائسپورا کا ووٹ ابھی مکمل طور پر آزاد نہیں ہوا۔

اگر ووٹ برادری، ذات، ذاتی تعلق، یاری دوستی، بڑے پیسے، بڑے کاروبار، معاشی اثر و رسوخ یا کسی کی ممبرشپ فیس ادا کرنے کی بنیاد پر حاصل کیا جائے تو پھر اسے ووٹ کی آزادی کیسے کہا جائے؟

جو ووٹ آزاد نہ ہو، وہ جمہوریت کا ذریعہ نہیں بلکہ غلامی کا ذریعہ بن جاتا ہے۔

ہم ووٹ کو آزاد کرانے اور اس کی عزت بحال کرنے کے لیے انتخابات میں بھی لڑیں گے اور انتخابات کے بعد بھی۔

ہم صرف آج کے ووٹر کے لیے نہیں بلکہ آنے والی نسل کے لیے بھی کھڑے ہیں۔ کل ہمارے گرینڈ چلڈرن پوچھیں گے کہ ہمارے بڑوں نے کس کو منتخب کیا، کس کو مسترد کیا اور کس پروگرام کو کامیاب بنایا؟

لطیف سائیں نے کہا تھا:

”جیتو یا ہارو، یہ جگہ تمہاری ہے۔“

سوال:
آئیے نعروں اور تنقید سے آگے بڑھتے ہیں۔ اگر ’آزادی پینل‘ کامیاب ہوگیا تو سانا میں عملی طور پر کیا بدلے گا؟

حسن مجتبیٰ:
ہمارا منشور آخری مرحلے میں ہے، لیکن اس کے بنیادی نکات واضح ہیں۔

ہمارا نعرہ ہے:

”دنیا بھر کے سندھی، ایک ہو؛ عورت بچاؤ، سندھ بچاؤ۔“

ہم چاہتے ہیں کہ سانا صرف سالانہ کنونشن منعقد کرنے والی تنظیم نہ رہے بلکہ سندھ اور سندھیوں کے انسانی حقوق، ڈائسپورا کے مسائل اور سندھی ثقافت کے لیے ایک متحرک عالمی پلیٹ فارم بنے۔

ہماری ترجیحات میں شامل ہیں:

امریکہ میں سندھی مزدوروں اور کارکنوں کے استحصال کے خلاف آواز اور عملی مدد۔

سندھ سے کرپشن اور لوٹ مار کے ذریعے امریکہ منتقل ہونے والی دولت کے بارے میں آگاہی اور متعلقہ قانونی اداروں کے ساتھ تعاون۔

سانا کا اپنا ملٹی میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارم قائم کرنا۔

نیویارک، ہیوسٹن اور ٹورنٹو میں سندھیوں کے لیے مختصر اور عارضی رہائش کی سہولیات قائم کرنا۔

سندھ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مسلسل نگرانی کے لیے سانا واچ ڈاگ قائم کرنا۔

جبری گمشدگیوں، جبری مذہبی تبدیلی اور خواتین کے خلاف تشدد کے معاملات پر منظم کام کرنا۔

’غیرت‘ یا ’کاری‘ کے نام پر ہونے والے قتل کے خلاف عالمی رائے عامہ ہموار کرنا۔

خواتین کے حقوق کے لیے ہیلپ لائن قائم کرنا۔

نئے سندھی تارکینِ وطن کے لیے ریسٹلمنٹ، اسائلم، سٹیزن شپ اور روزگار کے سلسلے میں مدد فراہم کرنا۔

سانا میں فلم اور ڈاکیومنٹریز کا شعبہ قائم کرنا۔

نوجوانوں اور خواتین کی Leadership اور Empowerment کے لیے کام کرنا۔

نسل پرستی، سامیت مخالف سوچ، عورت مخالف رویوں اور ہوموفوبیا کے خلاف کام کرنا۔

سندھی-اردو یکجہتی اور دیگر مظلوم قوموں کے ساتھ یکجہتی کو فروغ دینا۔

سانا میں ’افرو سندھی سولیڈیرٹی‘ کے لیے باقاعدہ فورم قائم کرنا۔

سندھ اور ہندوستان کے سندھیوں کو ایک دوسرے کے قریب لانا۔

سندھی زبان، ادب، شاعری، تاریخ اور ثقافت کے فروغ کے لیے مؤثر پروگرام بنانا۔

اور سب سے اہم، سانا کی قیادت اور عام سندھی ڈائسپورا کے درمیان موجود ’شیشے کی دیوار‘ ختم کرنا۔

سوال:
آپ ’شیشے کی دیوار‘ کی اصطلاح بار بار استعمال کرتے ہیں۔ آخر سانا میں یہ دیوار کس کے اور کس کے درمیان ہے؟

حسن مجتبیٰ:
یہ دیوار سانا کی قیادت اور عام سندھی ڈائسپورا کے درمیان ہے۔

سانا 1984ء میں کسی ہوٹل میں کنونشن کرنے کے لیے قائم نہیں ہوئی تھی۔ یہ ضیاء آمریت کے دور میں سندھ اور سندھیوں پر ہونے والے جبر کے خلاف آواز بننے کے لیے قائم ہوئی تھی۔

اس کے بانی سندھ دوست اور انسان دوست لوگ تھے۔ ان میں ڈائسپورا کے لوگ بھی تھے اور سیاسی جلاوطن بھی۔

لیکن وقت کے ساتھ سانا اپنے بنیادی مقصد سے کافی دور چلی گئی۔

تھنک ٹینک جب صرف ’ٹینک‘ بن جائے تو پھر مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔

آج بہت سے لوگوں کے نزدیک سانا کا تصور صرف اتنا رہ گیا ہے کہ وہ ہر سال سندھیوں کو امریکہ بلا کر ایک بڑا کنونشن منعقد کرتی ہے۔

یہ بھی اپنی جگہ درست ہے، لیکن سانا کا مقصد اس سے کہیں بڑا تھا۔

سوال:
آپ فائیو اسٹار اور فور اسٹار ہوٹلوں میں ہونے والے سانا کنونشنز پر بھی تنقید کرتے ہیں۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ سانا کی ’عیاشی‘ ختم ہونی چاہیے؟

حسن مجتبیٰ:
میں کہتا ہوں کہ اخراجات پر دوبارہ غور ہونا چاہیے۔

سندھ انتہائی غریب ہے۔ جب ہم فائیو اسٹار ہوٹلوں میں لاکھوں روپے یا ڈالر خرچ کرتے ہیں تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ وسائل سندھیوں کی بھلائی کے لیے زیادہ بہتر انداز میں استعمال نہیں ہوسکتے؟

ہم یونیورسٹیوں اور کمیونٹی ہالز میں کنونشن منعقد کرنے پر غور کیوں نہیں کرتے؟

حلیم باغی کو سانا نے اب تک کیوں نہیں بلایا؟

ان کا سوال آج بھی ہمارے سامنے ہے:

”میں کیسے چین سے سوؤں، میرے ماروئڑے بھوکے پیٹ سوئیں؟“

اگر کچھ اخراجات بچا کر سندھ میں نئے منصوبوں یا سندھیوں کی فلاح پر خرچ کیے جاسکتے ہیں تو ہمیں اس پر سنجیدگی سے سوچنا چاہیے۔

سوال:
آپ ’کرسی کلچر‘ ختم کرنے کی بات کرتے ہیں۔ کیا آپ کا الزام ہے کہ سانا میں کرسیاں بھی طاقت کی علامت بن گئی ہیں؟

حسن مجتبیٰ:
جی ہاں، اور یہی ’شیشے کی دیوار‘ کا ایک حصہ ہے۔

آپ نے دیکھا ہوگا کہ کبھی کسی کو کرسی پر بیٹھنے سے روکا جاتا ہے اور کبھی کسی کے لیے کرسی لا کر دی جاتی ہے۔

ہم کہتے ہیں کہ سانا کسی کی ذاتی جاگیر نہیں۔

کرسی خدمت کے لیے ہونی چاہیے، حکمرانی کے لیے نہیں۔

سندھی ڈائسپورا کے عام اور درد رکھنے والے لوگوں کو آگے آنے دیں۔ انہیں قیادت کا حصہ بننے دیں۔ پھر یہ شیشے کی دیوار خود ٹوٹے گی۔

سوال:
اب سب سے اہم سوال: ’آزادی پینل‘ میں کون کون شامل ہے؟ کون آپ کے ساتھ کھڑا ہے؟

حسن مجتبیٰ:
صدر کے لیے میں، حسن مجتبیٰ۔

نائب صدر کے لیے ڈاکٹر نیل کنٹھ۔

سیکریٹری جنرل کے لیے ڈاکٹر آزادی فتح برفت۔

انفارمیشن سیکریٹری کے لیے غلام نبی چھچر۔

خزانچی کے لیے ڈاکٹر احسان تھہیم۔

جوائنٹ سیکریٹری کے عہدے کے لیے ہم نے اپنا امیدوار نہیں کھڑا کیا اور اس کے لیے اپنے دوست اور ساتھی شعیب بھٹو کی حمایت کر رہے ہیں۔

خواتین کے لیے مخصوص نائب صدر کے عہدے پر ہم نے امیدوار نہیں دیا، کیونکہ ہم صنفی بنیاد پر ایسے الگ عہدے کے تصور پر یقین نہیں رکھتے۔

تاہم خیرسگالی کے جذبے کے تحت دونوں پینلز میں سے اس عہدے پر کھڑی کسی بھی معزز خاتون امیدوار کی حمایت کریں گے۔

سوال:
آخر میں ایک سیدھا سوال: اگر ’آزادی پینل‘ کامیاب ہوگیا تو کیا سانا واقعی بدلے گی، یا یہ بھی ایک اور الیکشن، ایک اور پینل اور کچھ نئے نعرے ثابت ہوں گے؟

حسن مجتبیٰ:
فرق نعرے میں نہیں، ارادے اور عمل میں ہوگا۔

ہمارا مقصد کسی ایک گروپ کو ہٹا کر دوسرے گروپ کو کرسی پر بٹھانا نہیں۔

ہم کرسی کا کلچر ہی بدلنے آئے ہیں۔

ہم چاہتے ہیں کہ سانا کسی ایک گروپ کی نہیں، ہر سندھی کی سانا ہو۔

اور اگر ہم یہ نہ کرسکے تو پھر ہماری ’آزادی‘ کا نعرہ بھی بے معنی ہوگا۔

Comments (0)
Add Comment