امریکہ میں ہیلووین: صدیوں پرانی روایت نے کیسے اختیار کیا جدید تہوار کا روپ؟

واشنگٹن (خصوصی رپورٹ: سندھ ريکا) امریکہ میں ہر سال 31 اکتوبر کو ہیلووین بھرپور جوش و خروش سے منایا جاتا ہے۔ کدو سے بنے چراغ، خوفناک ملبوسات، گھروں کی منفرد سجاوٹ اور بچوں کا ’’ٹرک اور ٹریٹ‘‘ اس تہوار کی نمایاں خصوصیات ہیں، تاہم اس جدید اور مقبول تہوار کے پس منظر میں صدیوں پرانی روایات اور ثقافتی تاریخ پوشیدہ ہے۔

ہیلووین کے موقع پر امریکہ کے مختلف شہروں میں گھروں، گلیوں، اسکولوں، تفریحی مراکز اور کاروباری مقامات کو بھوتوں، چڑیلوں، مکڑیوں کے جالوں، ڈھانچوں اور دیگر خوفناک اشیا سے سجایا جاتا ہے۔ بچے مختلف کرداروں کے لباس پہن کر گھر گھر جاتے اور ٹافیاں، چاکلیٹ اور دیگر مٹھائیاں جمع کرتے ہیں۔

ہیلووین کی ابتدا کہاں سے ہوئی؟

تاریخی طور پر ہیلووین کی جڑیں قدیم سیلٹک تہوار ’’سامہین‘‘ (Samhain) سے جوڑی جاتی ہیں۔ سیلٹک قبائل آئرلینڈ، اسکاٹ لینڈ اور یورپ کے بعض علاقوں میں آباد تھے۔

وہ یکم نومبر کو نئے سال اور موسم سرما کے آغاز سے منسوب کرتے تھے، جبکہ 31 اکتوبر کی رات سامہین منایا کرتے تھے۔ قدیم عقیدے کے مطابق اس رات زندہ انسانوں اور روحوں کی دنیا کے درمیان فاصلہ کم ہوجاتا تھا۔

اس موقع پر لوگ بڑے الاؤ روشن کرتے، مخصوص لباس اور نقاب پہنتے اور مختلف رسومات ادا کرتے تھے۔

مذہبی روایات سے ہیلووین تک

وقت کے ساتھ اس تہوار میں عیسائی روایات بھی شامل ہوئیں۔ یکم نومبر کو آل سینٹس ڈے (All Saints’ Day) منایا جانے لگا، جبکہ اس سے ایک رات قبل کو آل ہیلوز ایون (All Hallows’ Eve) کہا جاتا تھا۔

بعد ازاں یہی نام مختصر ہوکر ’’ہیلووین‘‘ بن گیا اور وقت کے ساتھ اس تہوار نے مذہبی رسومات سے نکل کر ایک وسیع عوامی اور ثقافتی شکل اختیار کرلی۔

آئرش تارکین وطن ہیلووین کو امریکہ لائے

انیسویں صدی میں آئرش اور اسکاٹش تارکین وطن کی بڑی تعداد امریکہ پہنچی تو وہ اپنی ثقافتی روایات بھی ساتھ لائے۔ خصوصاً آئرلینڈ میں قحط اور معاشی مشکلات کے باعث امریکہ منتقل ہونے والے افراد نے سامہین سے جڑی کئی روایات کو نئے معاشرے میں متعارف کرایا۔

وقت گزرنے کے ساتھ ان روایات نے امریکی ثقافت کے ساتھ امتزاج اختیار کیا اور ہیلووین ایک عوامی تفریحی تہوار بن گیا۔

کدو کا چراغ ہیلووین کی پہچان کیوں؟

جیک او لینٹرن (Jack-o’-Lantern) ہیلووین کی سب سے نمایاں علامتوں میں شمار ہوتا ہے۔

اس روایت کا تعلق آئرش لوک کہانیوں سے بیان کیا جاتا ہے۔ آئرلینڈ میں ابتدا میں شلجم اور دیگر سبزیوں کو تراش کر چراغ بنائے جاتے تھے، تاہم امریکہ میں بڑے اور آسانی سے دستیاب کدو نے ان کی جگہ لے لی۔

آج امریکہ میں خاندان ہیلووین سے قبل کدو تراش کر ان پر آنکھیں، ناک اور منہ بناتے ہیں اور اندر روشنی رکھ کر انہیں گھروں، دروازوں اور کھڑکیوں کے باہر سجاتے ہیں۔

’’ٹرک اور ٹریٹ‘‘ سب سے مقبول روایت

ہیلووین کی سب سے مقبول سرگرمی ’’ٹرک اور ٹریٹ‘‘ ہے۔ بچے سپر ہیرو، شہزادی، بھوت، چڑیل، جانور اور فلمی کرداروں کے لباس پہن کر گھر گھر جاتے ہیں۔

بچے دروازہ کھٹکھٹا کر ’’ٹرک اور ٹریٹ‘‘ کہتے ہیں اور عموماً انہیں ٹافیاں، چاکلیٹ اور دیگر مٹھائیاں دی جاتی ہیں۔

بالغ افراد بھی تقریبات میں شریک

ہیلووین صرف بچوں تک محدود نہیں۔ امریکہ میں بالغ افراد بھی مختلف کاسٹیوم پارٹیز میں شریک ہوتے ہیں۔

گھروں، دفاتر، اسکولوں اور کمیونٹی مراکز میں خصوصی تقریبات منعقد کی جاتی ہیں، جہاں لوگ منفرد، مزاحیہ یا خوفناک ملبوسات پہن کر شریک ہوتے ہیں۔

گھروں کی سجاوٹ اور کدو تراشنے کے مقابلے

ہیلووین سے کئی ہفتے قبل ہی گھروں کی سجاوٹ شروع ہوجاتی ہے۔ کدو کے چراغوں کے ساتھ مصنوعی بھوت، ڈھانچے، مکڑیوں کے جالے، خوفناک کردار اور مختلف روشنیاں استعمال کی جاتی ہیں۔

بعض علاقوں میں کدو تراشنے کے مقابلے بھی منعقد کیے جاتے ہیں، جن میں بچے اور بڑے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

اسکولوں اور کمیونٹی میں خصوصی سرگرمیاں

امریکہ کے مختلف اسکولوں میں ہیلووین کے موقع پر کاسٹیوم پریڈ، بچوں کے پروگرام اور تفریحی سرگرمیوں کا اہتمام کیا جاتا ہے۔

کئی شہروں میں کارنیوال، تفریحی پارکس اور ’’ہاٹڈ ہاؤسز‘‘ بھی قائم کیے جاتے ہیں، جہاں خوف اور تفریح کو یکجا کیا جاتا ہے۔

خوفناک پس منظر، لیکن جدید دور میں خاندانی تفریح

اگرچہ ہیلووین کا تاریخی پس منظر روحوں، خوف اور پراسرار کرداروں سے جڑا ہوا ہے، لیکن موجودہ دور میں امریکہ میں اسے بڑی حد تک خاندانی تفریح اور کمیونٹی سرگرمی کے طور پر منایا جاتا ہے۔

خاندان مل کر کدو تراشتے، گھروں کو سجاتے اور مقامی تقریبات میں شرکت کرتے ہیں۔ تاہم بعض مذہبی اور ثقافتی حلقے اس تہوار سے دور رہتے ہیں، جبکہ کچھ افراد اسے محض بچوں کی تفریح کے طور پر مناتے ہیں۔

ہیلووین اور امریکی معیشت

ہیلووین نے امریکہ میں ایک بڑی تجارتی سرگرمی کی شکل بھی اختیار کرلی ہے۔ تہوار سے قبل کاسٹیومز، ماسک، کینڈی، کدو، سجاوٹ کے سامان اور پارٹی مصنوعات کی فروخت میں نمایاں سرگرمی دیکھنے کو ملتی ہے۔

اس دوران چھوٹے کاروباروں سے لے کر بڑے ریٹیل اسٹورز تک مختلف شعبوں میں تجارتی سرگرمیاں بڑھ جاتی ہیں۔

صدیوں پرانی روایت، جدید امریکی رنگ

ہیلووین اس بات کی ایک مثال ہے کہ قدیم ثقافتی روایات وقت کے ساتھ کس طرح نئی سماجی اور ثقافتی شکل اختیار کرسکتی ہیں۔

آئرلینڈ اور اسکاٹ لینڈ کی قدیم روایات سے جڑا یہ تہوار آج امریکہ میں تاریخ، لوک روایات، خاندانی تفریح، کمیونٹی سرگرمیوں اور تجارتی ثقافت کا امتزاج بن چکا ہے۔

31 اکتوبر کی رات روشن کدو، منفرد ملبوسات، سجی ہوئی گلیاں اور بچوں کی ’’ٹرک اور ٹریٹ‘‘ کی سرگرمیاں امریکی معاشرے میں ہیلووین کے جدید رنگ کی عکاسی کرتی ہیں۔

Comments (0)
Add Comment