تین سال سے جگر کے عارضے سے نبرد آزما صحافی ذوالفقار راجپر کے لیے مدد کی اپیل

کراچی (رپورٹ: سندھ ریکا) کراچی کے سینئر صحافی، مصنف اور سماجی کارکن ذوالفقار راجپر کی ناساز صحت کی خبر سوشل میڈیا پر سامنے آنے کے بعد صحافتی اور سماجی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق ذوالفقار راجپر گزشتہ تین سال سے جگر کے عارضے میں مبتلا ہیں اور علاج کے سلسلے میں مختلف اوقات میں اسپتالوں کے چکر لگاتے رہے ہیں۔ انہیں کئی مرتبہ ایس آئی یو ٹی کی جانب سے مزید علاج کے لیے ضیاء الدین اسپتال بھیجا گیا، جہاں ان کا علاج جاری رہا، تاہم مالی مشکلات کے باعث علاج کا سلسلہ مستقل طور پر جاری رکھنے میں رکاوٹیں پیش آتی رہی ہیں۔

قریبی دوستوں کے مطابق ذوالفقار راجپر کے علاج کے لیے مختلف ٹیسٹ، ڈاکٹروں کی فیس، ادویات اور دیگر طبی اخراجات درکار ہیں، جبکہ ان کے مالی حالات ایسے نہیں کہ وہ یہ اخراجات مستقل طور پر برداشت کر سکیں۔

صحافتی حلقوں سے وابستہ وحید راجپر اور اسرار شیخ سمیت ان کے قریبی دوستوں کا کہنا ہے کہ وہ ذوالفقار کی صحت اور گزشتہ چند برسوں کے دوران ان کی جانب سے برداشت کی جانے والی مشکلات سے بخوبی آگاہ ہیں۔

ذرائع کے مطابق ذوالفقار راجپر کو کئی مرتبہ جگر کی پیوند کاری (لیور ٹرانسپلانٹ) کا مشورہ بھی دیا گیا، تاہم مالی وسائل کی کمی اور خاندانی جائیداد میں حصہ نہ ملنے سمیت مختلف وجوہات کے باعث ان کا علاج مطلوبہ انداز میں آگے نہ بڑھ سکا۔

ذوالفقار راجپر نے اپنی صحافتی اور سماجی زندگی کے دوران متعدد دوستوں اور ساتھیوں کی مدد اور خدمت کی ہے۔ ان کے دوستوں کے مطابق زندگی کے مختلف مراحل میں انہوں نے اپنے خاندان کی بھی بھرپور دیکھ بھال کی، جبکہ ان کے چھوٹے بھائی اعجاز کا بھی کچھ عرصہ قبل انتقال ہو چکا ہے۔

اس وقت ذوالفقار راجپر کے دوستوں اور ساتھیوں کی جانب سے ان کے علاج اور مالی مدد کے لیے تعاون کی اپیل کی جا رہی ہے۔ دوستوں کا کہنا ہے کہ ان کی موجودہ حالت میں بروقت علاج اور مناسب طبی سہولیات ان کی زندگی بچانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔

ذوالفقار راجپر مبینہ طور پر اپنی ذات کے لیے مالی مدد لینے سے ہمیشہ گریز کرتے رہے ہیں، تاہم ان کے دوستوں اور ساتھیوں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں ان کا علاج جاری رکھنے کے لیے اجتماعی تعاون کی اشد ضرورت ہے۔

صحافتی اور ادبی حلقوں کی جانب سے یہ اپیل بھی کی گئی ہے کہ ذوالفقار راجپر کی تحریر کردہ کتابوں کی اشاعت کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں، تاکہ ان کا ادبی اور صحافتی کام محفوظ رہ سکے اور انہیں اس مشکل وقت میں اخلاقی و عملی سہارا فراہم کیا جا سکے۔

دوستوں اور ساتھیوں کا کہنا ہے کہ ذوالفقار راجپر کو اس مشکل وقت میں تنہا نہ چھوڑا جائے بلکہ ان کے علاج، دیکھ بھال اور ادبی کام کی اشاعت کے لیے مل کر تعاون کیا جائے۔

Comments (0)
Add Comment