امریکا کا منفرد جزیرہ جہاں گاڑیاں نہیں چلتیں، لوگ پیدل اور گھوڑوں پر سفر کرتے ہیں

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکا کی ریاست مشی گن میں واقع میکینک آئی لینڈ اپنی منفرد طرزِ زندگی اور ٹریفک کے حیرت انگیز نظام کے باعث دنیا بھر میں توجہ کا مرکز ہے، جہاں عام موٹر گاڑیوں کو چلانے کی اجازت نہیں اور لوگ زیادہ تر پیدل، سائیکل یا گھوڑوں سے چلنے والی بگھیوں کے ذریعے سفر کرتے ہیں۔

میکینک آئی لینڈ پر موٹر گاڑیوں پر پابندی ایک صدی سے بھی زیادہ عرصے سے نافذ ہے۔ مقامی حکام کے مطابق جزیرے پر گاڑیوں کی پابندی 1898ء میں شروع ہوئی، جس کے بعد یہاں سڑکوں پر کاروں کے بجائے سائیکلوں، پیدل چلنے والوں اور گھوڑوں سے چلنے والی گاڑیوں کا منظر عام ہے۔

جزیرے کے گرد تقریباً 8.2 میل طویل ایم-185 شاہراہ بھی موجود ہے، جسے امریکا کی ایسی واحد ریاستی شاہراہ قرار دیا جاتا ہے جہاں عام موٹر گاڑیوں کی آمدورفت ممنوع ہے۔ یہاں لوگ پیدل چلتے، سائیکل چلاتے یا گھوڑوں سے چلنے والی گاڑیوں میں سفر کرتے ہیں۔

میکینک آئی لینڈ میں گھوڑے نہ صرف سیاحوں کی تفریح کا ذریعہ ہیں بلکہ نقل و حمل کا بھی اہم حصہ ہیں۔ سیاح گھوڑوں پر سوار ہو کر جزیرے کی سیر کرتے ہیں جبکہ گھوڑوں سے چلنے والی بگھیاں بھی مقامی ٹرانسپورٹ میں استعمال ہوتی ہیں۔ دوسری جانب سائیکلیں بھی یہاں انتہائی مقبول ہیں اور بڑی تعداد میں کرائے پر دستیاب ہوتی ہیں۔

جزیرے کی یہ انوکھی روایت اسے امریکا کے دوسرے شہروں اور سیاحتی مقامات سے ممتاز کرتی ہے۔ یہاں پہنچنے والے افراد کو اپنی گاڑی مرکزی علاقے میں چھوڑ کر کشتی کے ذریعے جزیرے تک پہنچنا پڑتا ہے، جبکہ جزیرے کے اندر سفر کا تجربہ روایتی اور پُرسکون ماحول میں ہوتا ہے۔

میکینک آئی لینڈ کا یہ منفرد نظام آج بھی برقرار ہے اور جدید دور میں بھی یہاں کی سڑکوں پر کاروں کے ہارن کے بجائے سائیکل کی گھنٹیوں اور گھوڑوں کے قدموں کی آوازیں سنائی دیتی ہیں۔

Comments (0)
Add Comment