تحریر: میاں محمد فراز اکرم
تمغۂ حسنِ کارکردگی اور ستارۂ امتیاز جیسے صدارتی اعزازات کسی بھی ملک میں قومی خدمات، غیر معمولی صلاحیتوں اور طویل عرصے تک نمایاں کردار ادا کرنے والی شخصیات کی حوصلہ افزائی اور اعتراف کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔ پاکستان میں بھی ان اعزازات کا مقصد ان افراد کو قومی سطح پر خراجِ تحسین پیش کرنا ہے جنہوں نے مختلف شعبوں میں ملک و قوم کے لیے قابلِ قدر خدمات انجام دی ہوں۔ تاہم حالیہ برسوں میں صدارتی اعزازات کے انتخاب کے طریقۂ کار اور میرٹ پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
ایک بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا ان اعزازات کے لیے واقعی واضح، شفاف اور قابلِ جانچ میرٹ موجود ہے؟ اگر میرٹ موجود ہے تو پھر عوام کو یہ جاننے کا حق بھی حاصل ہونا چاہیے کہ ان اعزازات کے لیے ناموں کا انتخاب کس معیار کے تحت کیا جاتا ہے، سفارشات کون مرتب کرتا ہے اور حتمی فیصلے کن اصولوں کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں۔
گزشتہ چند برسوں کے دوران صدارتی ایوارڈز کے اعلانات میں بڑی تعداد میں شخصیات کو شامل کیا گیا ہے۔ رواں سال بھی 372 شخصیات کو مختلف سول اعزازات دینے کا اعلان کیا گیا ہے، جو 30 مارچ کو پیش کیے جانے ہیں۔ اتنی بڑی تعداد میں اعزازات کی تقسیم کے باعث یہ سوال مزید اہم ہو جاتا ہے کہ کیا ہر اعزاز حقیقی قومی خدمت اور غیر معمولی کارکردگی کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے یا اس عمل میں سفارش، تعلقات اور اثر و رسوخ بھی اپنا کردار ادا کرتے ہیں؟
پاکستان میں فن، ادب، تعلیم، صحافت، ثقافت اور دیگر شعبوں میں کئی ایسی شخصیات گزری ہیں جنہوں نے اپنی پوری زندگی ملک و قوم کی خدمت میں صرف کی، مگر انہیں وہ قومی اعتراف نہیں مل سکا جس کے وہ مستحق تھے۔ مثال کے طور پر معروف فنکار، استاد اور کمپیئر دلدار پرویز بھٹی مرحوم کی خدمات کو نظرانداز کیے جانے کا سوال بھی اس بحث کو جنم دیتا ہے کہ قومی اعزازات کے لیے تاریخی اور طویل المدت خدمات کا جائزہ کس حد تک لیا جاتا ہے۔
دلدار پرویز بھٹی نہ صرف انگریزی کے استاد اور ایم اے انگلش تھے بلکہ پنجابی زبان و ادب، فنِ کمپیئرنگ اور ثقافتی سرگرمیوں کے حوالے سے بھی ایک نمایاں نام تھے۔ انہوں نے اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک متعدد پروگراموں میں پاکستان کی نمائندگی کی۔ ایسے کرداروں کا جائزہ لیتے ہوئے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ قومی اعزازات کے انتخاب میں طویل عرصے پر محیط خدمات اور عوامی سطح پر اثرات کو کس قدر اہمیت دی جاتی ہے۔
یہ مسئلہ صرف ایک فرد یا ایک حکومت تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ نگران ادوار سمیت مختلف حکومتوں کے دوران صدارتی اعزازات کے حوالے سے سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اعزازات کے نظام کو شخصیات کے بجائے میرٹ، شفافیت اور قومی خدمت سے جوڑے۔
صدارتی اعزاز کسی سیاسی جماعت، حکومت یا مخصوص طبقے کی ملکیت نہیں بلکہ ریاست کی جانب سے قوم کی طرف سے دیا جانے والا اعزاز ہے۔ اس کی قدر و منزلت اسی وقت برقرار رہ سکتی ہے جب عوام کو یقین ہو کہ یہ اعزاز واقعی غیر معمولی خدمات کے اعتراف میں دیا گیا ہے۔
حکومت کو چاہیے کہ صدارتی اعزازات کے انتخاب کے لیے واضح معیار، شفاف طریقۂ کار اور قابلِ احتساب کمیٹیوں کا نظام متعارف کرائے، جبکہ نامزدگی اور انتخاب کے بنیادی اصول بھی عوام کے سامنے رکھے جائیں۔ اگر یہ اعزاز واقعی قومی وقار کی علامت ہیں تو ان کی تقسیم میں کسی بھی قسم کی سفارش، ذاتی تعلق یا سیاسی وابستگی کے تاثر کو ختم کرنا ناگزیر ہے۔
آخرکار سوال یہی ہے کہ صدارتی اعزازات کی توقیر کیسے برقرار رکھی جائے گی؟ اگر ہر شعبے میں نمایاں خدمات انجام دینے والوں کے بجائے اثر و رسوخ رکھنے والوں کو ترجیح دی گئی تو آنے والی نسلوں کے نزدیک ان اعزازات کی وقعت کم ہوتی چلی جائے گی۔ ریاستی اعزاز وہی معتبر ہوتا ہے جس کے پیچھے غیر معمولی خدمت، واضح میرٹ اور قومی اعتماد موجود ہو۔